ایک قوم، ایک وطن: قومی اتحاد اور ہم آہنگی وقت کی سب سے بڑی ضرورت’ ڈاکٹر اندریش کمار

حیدرآباد 13 .ڈسمبر (پی ایم آئی)مسلم راشٹرا منچ کے روح رواں ڈاکٹر اند ریس کمار نےشہریان ہند پر زور دیا کے ملک و قوم کی ترقی اور سما جی بر ئیوں کے خا تمے کے لئے آگے آئیں۔خاص طور پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی و یکجہتی کے فروغ کے ساتھ ساتھ حیدرآباد اور ہندوستان کو نشے کی لعنت پاک بنا نے میں تعمیری رول ادا کریں ۔ایم آر ایم کے سر براہ آج جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد کے پی جی آر آر سینٹر فار ڈسٹنس ایجوکیشن کے آڈیٹوریم میں ’’ سیمینار بعنوان ’’ایک قوم ایک وطن – ہندوستان‘‘ منعقد ہوا۔ اس سیمینار کا اہتمام ’’ہندوستان فرسٹ، ہندوستانی بیسٹ‘‘ کے زیرِ اہتمام کیا گیا، جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، سماجی رہنماؤں، دانشوروں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

۔اعزامی مہمانان پروفیسر شاہد اختر، قائم مقام چیئرمین، این سی ایم آئی، حکومتِ ہندجناب سید علی زکی حسینی، کرناٹک اسٹیٹ صدر، آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے بھی خطاب کیا۔دیگر مقررین میں ڈاکٹر مجید احمد تالیکوٹی، نامور آنکولوجی سرجنکرنل طاہر مصطفیٰ، رجسٹرار، جامعہ ہمدردپروفیسر پی ایف رحمان، سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی قا بل ذکر ہیں۔

سلسلئے تقریر جاری رکھتے ہو ئے اپنے فکر انگیز اور متاثر کن خطاب میں ڈاکٹر اندریش کمار نے ہندوستانی شناخت، تہذیبی اقدار اور اخلاقی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تین اہم پیغامات دیئے اور کہا کے ہم ’ہم سب سے پہلے ہندوستانی ہیں‘‘انہوں نے کہا کہ مذہبی، لسانی اور علاقائی شناخت سے بالاتر ہو کر ہر شہری کی پہلی شناخت ہندوستانی ہونا چاہیے، اور ملک کی ترقی کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ہمارے خواب ہماری ہندوستانی زبانوں میں ہوتے ہیں ۔

ڈاکٹر کمار نے کہا کہ انسان لاشعوری طور پر اپنی مادری زبان میں سوچتا اور خواب دیکھتا ہے، جو ہماری تہذیبی جڑوں کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی زبانوں پر فخر اور ان کے فروغ پر زور دیا۔برائی کو رد کریں اور اچھائی کو اختیار کریں۔

ڈاکٹر اندریش کمار نے خیر و شر کی ازلی کشمکش کا ذکر کرتے ہوئے رام اور راون، امام حسینؓ اور یزید، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اور اجمل قصاب، نیز دارا شکوہ اور اورنگزیب کی مثالیں پیش کیں اور کہا کہ انسان کو شعوری طور پر برائی کو رد کر کے اچھائی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ یہی رویہ ایک مضبوط معاشرے اور قوم کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھائی کا انتخاب نہ صرف انسان بلکہ قوم کو بھی مضبوط بناتا ہے
ماہر تعلیم پرو فیسر شا ہد اختر نےکہا کے ایک قوم، ایک وطن” ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں نفرت، تعصب اور تقسیم سے اوپر اٹھنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے کی ثقافت، عقائد اور خیالات کا احترام کرنا چاہیے۔ اسی سے ہمارا ملک ترقی کرے گا اور مضبوط بنے گا۔ہندوستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے وطن کے اتحاد، امن اور سالمیت کی حفاظت کریں۔ آئیے ہم سب مل کر ایک بہتر، مضبوط اور متحد ہندوستان کے لیے کام کریں۔آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا:مختلف ثقافتیں، مختلف زبانوں کے باوجثددل ایک — ہندوستان۔
دیگر مقررین نے بھی قومی ہم آہنگی، شمولیت، اخلاقی قیادت اور تعلیم کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو سماجی قیادت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی تلقین کی۔ سیمنار پروفیسر اختر تلا وت کلام پاک سے ہوا۔

سیمینار کا اختتام اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر مقررین اور شرکاء کی قیمتی آراء کو سراہا گیا۔ یہ سیمینار اتحاد، ثقافتی فخر، اخلاقی ذمہ داری اور قوم پرستی کے مثبت تصور کو فروغ دینے میں کامیاب رہا اور شرکاء کو ’’ایک قوم ایک وطن – ہندوستان‘‘ کے وژن کے لیے عملی کردار ادا کرنے کی ترغیب دی گئی۔
سمینار میں ایم آر ایم ساؤتھ انڈیا کے انچاج الیاس احمد’محمد عباس کویت کراٹک’ نجف علی شوکت جرنلسٹ کنوینر تلنگانہ اسٹیٹ’ڈاکٹر ذیشان عباس’’ سرور حسین معا ون کنویر کےعلاوہ ’کیرالا ’آندھرا’اور ریاستوں کے ایم آر ایم کنوینرس نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں