رائے پور میں قومی سلامتی پر زور: امیت شاہ کی کانفرنس میں شرکت، وزیراعظم مودی کریں گے اختتامی خطاب

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کے روز رائے پور، چھتیس گڑھ میں ڈی جی پی-آئی جی پی کانفرنس کے 60ویں ایڈیشن میں شرکت کی۔ یہ تاریخی کانفرنس پہلی بار ریاستی دارالحکومت میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں ملک بھر کے اعلیٰ پولیس افسران قومی سلامتی اور داخلی چیلنجوں پر تفصیلی غور و فکر کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی 29 اور 30 نومبر کو ہونے والے اہم سیشنز کی صدارت کریں گے، جن کے ساتھ کانفرنس 30 نومبر کو اختتام پذیر ہوگی۔

اندرونی سلامتی پر مرکوز ایجنڈا

نیو رائے پور کے جدید میرین ڈرائیو کمپلیکس میں منعقد اس کانفرنس کا مقصد ملک کی سلامتی سے متعلق موجودہ حکمت عملیوں کا جائزہ لینا اور مستقبل کا روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ اجلاس میں درج ذیل اہم موضوعات پر تفصیلی بحث ہوگی:

نکسل ازم (بائیں بازو کی انتہاپسندی)

دہشت گردی کے خلاف اقدامات

منشیات اور نارکوٹکس کی روک تھام

سائبر سکیورٹی

بارڈر مینجمنٹ

سینیئر عہدیداروں کے مطابق مختلف ریاستوں اور مرکزی ایجنسیوں کی رپورٹس، پیشکشیں اور ڈیٹا کا جائزہ لے کر آئندہ کی پالیسیوں کا تعین کیا جائے گا۔

نکسل متاثرہ علاقوں پر خصوصی غور

ذرائع کے مطابق اس سال کی کانفرنس کا سب سے زیادہ فوکس نکسل متاثرہ علاقوں، خصوصاً چھتیس گڑھ کے بستر ریجن پر ہے۔ حالیہ مہینوں میں ریاستی پولیس اور مرکزی فورسز کی مشترکہ کارروائیوں نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس سے نکسل نیٹ ورک کمزور ہوا ہے۔

کانفرنس میں درج ذیل نکات پر خاص غور ہوگا:

حالیہ انسدادِ نکسل کارروائیوں کا جائزہ

باقی رہ جانے والے نکسل گڑھوں کی نشاندہی

ریاستی پولیس اور مرکزی فورسز کے درمیان مزید ہم آہنگی

بستر اور ملحقہ علاقوں میں طویل مدتی استحکام کا منصوبہ

وزیر اعظم مودی کا دورہ چھتیس گڑھ

وزیر اعظم نریندر مودی کا اس کانفرنس میں شرکت کرنا چھتیس گڑھ کا دو ماہ میں دوسرا دورہ ہوگا۔ مجوزہ شیڈول کے مطابق وزیراعظم:

31 اکتوبر کو رائے پور پہنچیں گے

یکم نومبر کو ریاستی یومِ تاسیس کی تقریب میں شرکت کریں گے

نومبر کے آخری ہفتے میں دوبارہ رائے پور آکر کانفرنس کا اختتامی خطاب کریں گے

حکام نے بتایا کہ وزیر اعظم کا شیڈول حالات کے مطابق تبدیل بھی ہوسکتا ہے۔

گزشتہ سال کی کانفرنس

گزشتہ برس 59ویں ڈی جی پی-آئی جی پی کانفرنس 30 نومبر تا یکم دسمبر 2024 کو بھونیشور میں منعقد ہوئی تھی، جس کا فوکس دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، نکسل ازم، ساحلی سلامتی، نئے فوجداری قوانین اور نارکوٹکس پر تھا۔ اس سال کے اجلاس میں گزشتہ کانفرنس کے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں