Recent controversy over temples and mosques: RSS chief Mohan Bhagwat’s statement welcomed by religious and political leaders

مندروں اور مساجد پر حالیہ تنازعہ: آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے بیان کا مذہبی و سیا سی قا ئدین نے کیا خیر مقدم

موہن بھاگوت کا بیان خوش آئند ر ’کن پار لیمنٹ اقرا حسن’ ۔ مسجد کے نیچے سے مندرتلاش کرنا غلط ہے آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ مولانا یعسوب عباس

نئی دہلی: راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) سربراہ موہن بھاگوت کے ’ہندوؤں کے لیڈر‘ بننے والے بیان کی سیا سی و مذہبی قائدین سے حمایت مل رہی ہے۔ رکن پار لیمنٹ اقرا حسن نےخوش آئند قرار دیا جبکہ ۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ اور مسلم یوتھ فیڈریشن کے علاوہ انڈین شیعہ مسلم فو رمنے بھی مندر۔مسجد مسلہ پر مو ہن بھا گوت کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت نے مندروں اور مساجد پر حالیہ تنازعہ پر تبصرہ کیا ہے۔ اب اس پر سیاسی رد عمل جاری ہے۔ اتر پردیش کے کیرانہ سے رکن پارلیمنٹ اور سماج وادی پارٹی کے رہنما اقرا حسن نے بھاگوت کے تبصرے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ حیران ہیں لیکن ان کا بیان خوش آئند ہے۔ اقرا نے کہا کہ ہمیں حیرت ہے کہ وہاں سے ایسا بیان آیا۔ پہلی بار، میں ان کے بیان سے اتفاق کرتی ہوں لیکن میں یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ یہ تمام تجربہ جو ہوا ہے، ان کی اپنی تنظیم نے شروع کیا تھا، لیکن کبھی نہیں سے بہتر دیر ہے۔ بیان دیر سے آیا ہے لیکن ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ایس پی لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے بھی بھاگوت کے بیان پر ردعمل ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھاگوت جی کا بیان درست ہے لیکن ان کے چیلے اسے قبول نہیں کر رہے ہیں اور انہیں کارروائی کرنی چاہئے۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیواری نے کہا کہ موہن بھاگوت جی کو یہ مشورہ ان لوگوں کو دینا چاہئے جو نظریاتی طور پر ان سے متفق ہیں اور جو لوگ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

: راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آرایس ایس) سربراہ موہن بھاگوت کے ’ہندوؤں کے لیڈر‘ بننے والے بیان کی سیا سی و مذہبی قائدین سے حمایت مل رہی ہے۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لاء بورڈ نے موہن بھاگوت کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ مسجد کے نیچے سے مندرتلاش کرنا غلط ہے۔ آرایس ایس سربراہ کا بیان اچھا ماحول پیدا کرے گا۔ مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ حکومت سیاست چمکانے والوں پرلگام لگائے۔ غیرملکی طاقتیں ملک کا ماحول خراب کررہی ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس سمیت کئی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران نے موہن بھاگوت کے بیان کو صحیح ٹھہرایا ہے۔ آرایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے پنے میں ایک تقریب کے دوران کہا تھا کہ کچھ لوگوں کولگتا ہے کہ وہ ’ہندوؤں کے لیڈر‘ بن جائیں گے۔

مسلم یوتھ فیڈریشن نےسر براہ محمد امین الدین نے کہا کے آر ایس ایس چیف کا بیان سے ملک میں مندر۔مسجد تنازعہ کی سبب دو نوں فر قوں میں پیدا کشید گی میں کے خا تمہ میں کمی لا سکتا ہے۔یہ تب ممکن ہے جب بی جے پی قائدین اپنے اشتعال انگیز بیا نات سے گریز کر تے ہوئے مو ہین بھا گوت کے ۔مشورہ پر عمل پیرا ہوں۔
انڈین شیعہ مسلم فورم ذولفقار کا ظمی نےمو ہن بھاگوت کے بیان کو سنجید گی سے غور کر نے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کےان کا بیان مذہبی تانؤ کو ختم کر نے میں سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ما حول پیداکر سکتا ہے۔ (PMI)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں