یوپی میں جاری مقدمات میں گیانواپی، شاہی عیدگاہ، اٹالہ، نوری جامع مسجد، سنبھل وغیرہ شامل ہیں۔
لکھنو ڈسمبر15 :ملک کے مختلف حصوں میں مذہبی مقامات کو لے کر درج مقدمات اور مذہبی مقامات پر سروے سے متعلق تنازعہ کے درمیان ملک کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے کے تحت آئندہ 4 ہفتوں تک مذہبی مقامات سے متعلق کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔ زیر التوا مقدمات میں کوئی حکم یا عبوری حکم نہیں دیا جائے گا۔
اتر پردیش میں مذہبی مقامات کے حوالے سے جاری تنازع کے معاملے میں اس وقت سب سے زیادہ ذکر وارانسی کی گیانواپی مسجد کا ہے۔ جس پر سروے کا حکم دیا گیا، جہاں سال 2021 میں ایک نئی پٹیشن دائر ہونے کے بعد عدالت کے حکم پر فروری 2024 میں مسجد کے تہہ خانے میں مبینہ مندر میں پوجا شروع کردی گئی۔ اس کے علاوہ متھرا کی شاہی عیدگاہ کا معاملہ اب بھی چل رہا ہے جہاں 2020 میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی اور پھر ہائی کورٹ نے کورٹ کمشنر کو مقرر کرکے سروے کا حکم دیا تھا لیکن پھر سپریم کورٹ نے اس پر عبوری روک لگا دی تھی۔
اس کے علاوہ حال ہی میں جو معاملہ کافی زیر بحث رہا ہے وہ سنبھل کا معاملہ ہے، جہاں شاہی جامع مسجد میں سروے کے دوران ہنگامہ ہوا تھا۔ یہاں کورٹ کمشنر سے سنبھل کی جامع مسجد کے سروے کا حکم دیا گیا تھا۔ سروے کے پہلے دن حالات پرسکون تھے لیکن دوسرے دن سروے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔ اس کے ساتھ ہی بدایوں کے نیل کنٹھ مہادیو مندر اور شمسی مسجد سے متعلق ایک کیس چل رہا ہے جس کی سماعت ابھی باقی ہے۔
دو دن پہلے جونپور کی اٹالہ مسجد کا معاملہ بھی اس وقت بحث میں آیا تھا جب کہا گیا تھا کہ 16 تاریخ کو وہاں سروے کے لیے ٹیم بنائی جائے گی۔ یہاں کی اٹالہ مسجد کے حوالے سے ایک تنازعہ ہے کہ پہلے یہاں اٹالہ دیوی کا مندر تھا۔ اس کے علاوہ لکھنؤ کی ٹیلہ مسجد کا معاملہ بھی چل رہا ہے جہاں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اورنگ زیب نے بھگوان شیشناگیش تلیشور مہادیو مندر کو گرا کر مسجد بنائی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے یوپی میں جاری مقدمات میں گیانواپی، شاہی عیدگاہ، اٹالہ، نوری جامع مسجد، سنبھل وغیرہ شامل ہیں۔
ان کا تذکرہ کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل وکلپ رائے کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے مذکورہ حکم کی وجہ سے اتر پردیش میں چل رہے مقدمات میں سروے کرایا گیا ہے۔ سماعت کے لیے مقرر کردہ اگلی تاریخ تک ان میں کوئی موثر عبوری یا حتمی حکم جاری نہیں کیا جا سکتا۔ ان معاملات میں جن میں سروے کا حکم دیا گیا ہے، سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کردہ اگلی تاریخ تک سروے نہیں کیا جائے گا۔ باقی مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں لیکن ان کا اندراج نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی سروے کا کوئی حکم جاری کیا جائے گا


















