مقد س بارگاہ حضرت امام رضا ’ ؑ غریب ‘‘کوہ امام ضامن ‘‘کا منشائے وقف’کہاں ہے۔واقف کون ہے’ منتخب کہاں ہے۔؟

شیعہ قو م شیعہ ہ اوقا فی جائیدادوں کے عدم تحفظ پر وقف بورڈکے علاوہ مو جو دہ و سابق شیعہ ارکان و قف بور ڈ کی کار کر دگی کوغیر اطمنان بحش سمجھتی ہے۔

حیدرآباد15ڈسمبر(پی ایم آئی)ان دنوں شوشل میڈیا پر مقدس بارگاہ حضرت امام رضا’غریب ‘‘کوہ امام ضامن ‘‘سے متعلق کا فی کچھ معلو مات حا صل ہو رہی ہیں۔یہ 100فیصد درست ہیں یا نہیں یہ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ایسا لگتا ہے کےلوگ وقف ما فیہ کے خلاف کمر بستہ ہو گئے ہیں۔شیعہ قو م شیعہ ہ اوقا فی جائیدادوں کے عدم تحفظ پر وقف بورڈکے علاوہ مو جو دہ و سابق شیعہ ارکان و قف بور ڈ کی کار کر دگی کوغیر اطمنان بحش سمجھتی ہے۔

آج ہر وہ شخص خاص طور پرنوجوان یہ جا ننا چا ہتا ہے کے‘‘کوہ امام ضا من ؑ کا منشا’وفف کہاں ہے۔ واقف کون ہے‘‘ کس نے وقف کیا ہے اور کب کیا ’ پہلا متولی کون ہے ۔اس بار گاہ کا منتخب کہاں ہے۔؟

سوال اٹھ رہے ہیں:کیا وقف بورڈ کی جانب سےشائع کی گئی 1956-1989-1999کی گزٹ میںکوہ امام ضامنؑ کا اندراج ہے۔اسکی جائیداد یعنی اراضی کتنے ایکڑ ہےبتا یا گیا ہے۔یہ بات وقف بورڈ کبھی نہیں بتائے گا۔لیکن مو جودہ شیعہ رکن وقف اور سا بق شیعہ ارکان بورڈ بتا سکتے ہیں۔کیا وہ بتائینگے؟

شیعہ یہ جاننا چا ہتے ہیں کےمو جودہ بورڈ کے رکن اور سابق ارکان بورڈکیا یہ بتا سکتے ہیں کے ان کے دور میںکتنی شیعہ اوقا فی جائدادوں کا تحفظ کیا گیا’کتنی اراضی پر قبضہ ہوا اور کتنی فروخت ہوئیں۔ کتنی بچی ہیں ؟ یہاں یہ بات قا بل ذکرہے کےوقف بورڈ کی لا پر وائی سے نہ صرف شیعہ بلکہ سنی اوقا فی جائدادوں پر قبضے بھی ہوئے اور فروخت بھی ہو ئیں۔کئی وقف املاک ایسی ہیں جو آج بھی منشائے وقف کے خلاف استعمال کی جا رہی ہیں۔ (پی ایم آئی)

ایک گذارش:اگر کسی کے پاس کوہ امام ضامن ؑ کے دستا ویزات ہوں تو اس کی ایک زیراکس کا پی پی ایم ئی کے واٹس ایپ پر ارسال کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں