حیدرآباد۔ 23 مئی – آندھرا پردیش میں اسمبلی و لوک سبھا انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس کو مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔ اس طرح وائی ایس آر کانگریس نے ریاست آندھرا پردیش میں ایک نئی تاریخ مرتب کرکے ایک نئی سیاسی ہلچل مچائی۔ اس تاریخ ساز کامیابی کے ذریعہ تلگو دیشم اور جنا سینا پارٹی عوامی فیصلہ کے ذریعہ کچل دی گئیں اور ریاست میں ہر جانب جگن موہن ریڈی اور ان کی پارٹی کی لہر دیکھی گئی ہے اور ریاست کے ووٹروں نے ان پر مکمل یقین کا اظہار کرتے ہوئے تلگودیشم کو اقتدار سے بیدخل کردیا ہے ۔ اس کامیابی کے رجحانات کے آغاز کے ساتھ ہی چیف منسٹر کی حیثیت سے جگن موہن ریڈی کی حلف برداری کو یقینی سمجھا جانے لگا تھا اور آندھرا پردیش کے عوام جگن موہن ریڈی چیف منسٹر آندھرا پردیش کے نام کی تختی لے کر گھومنے لگے ۔ شاندار کامیابی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور اس کے پرجوش قائدین حکومت تشکیل دینے کے مراحل کو مکمل کرنے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ 25 مئی کو وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے نومنتخبہ ارکان اسمبلی کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا جائے گا اور اس اجلاس میں صدر وائی ایس آر کانگریس جگن کو قائد مقننہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی منتخب کرلیا جائے گا۔ قائد مقننہ وائی ایس آر کانگریس منتخب ہونے کے فوری بعد آندھرا پردیش ریاستی گورنر ای ایس ایل نرسمہن کو باقاعدہ طور پر ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے تشکیل حکومت کیلئے تقریب حلف برداری کے انتظامات کرنے کی خواہش کی جائے گی۔ جگن 30 مئی کو منادر کے اہم شہر تروپتی میں وائی ایس آر جگن موہن ریڈی بحیثیت چیف منسٹر آندھرا پردیش اپنے عہدے کا حلف لیں گے اور اس سلسلے میں پارٹی کے اہم قائدین کو تمام تر تیاریاں کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
بھارت میں نپاہ وائرس کا خطرہ، کورونا سے بھی زیادہ خطرناک، جانیے اس کے علامات اور احتیاطی تدابیر
ایران میں تشدد جاری‘ کئی شہروں میں توڑ پھوڑ، مساجد، ہسپتالوں کو نقصان، 217 افراد ہلاک
تلنگانہ کے آئی پی ایس افسران کا میڈیا ’ٹرائل‘ کی مذمت، خواتین آئی اے ایس افسران کی حمایت
مہاراشٹر میں مقامی سطح پر مجلس اور کانگریس سے اتحاد’ شیو سینا (یو بی ٹی) کا بی جے پی پر نظریاتی سمجھوتے کا الزام


















