نئی دہلی ۔ – لوک سبھا انتخابات 2019 ء کے چھٹویں مرحلے میں اوسطاً 63 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ سرکاری بیان کے بموجب اس فیصد میں رائے دہی کے قطعی آخری تخمینہ تک معمولی سا فرق ممکن ہے ۔ رائے دہی بحیثیت مجموعی پرامن رہی ۔ صرف مغربی بنگال میں تشدد کے منتشر واقعات منظر عام پر آئے ۔ بی جے پی کے ایک امیدوار پر بھی حملہ کی اطلاعات ملیں ۔ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ہیں ۔ سوائے اس کے بحیثیت مجموعی رائے دہی بالکل پرامن رہی اور رائے دہی کے اختتام یعنی 5 بجے شام تک رائے دہی کا 63فیصد ریکارڈ کیا گیا ۔اس کے بعد ایک اور مرحلہ کی رائے دہی باقی ہے ۔
قطعی آخری رائے دہی کے اختتام کے بعد رائے شماری کا سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان آغاز ہوگا ۔ بعض علاقوں سے برقی رائے دہی مشینوں کی ناقص کارکردگی کی شکایات بھی ہیں ۔ چنانچہ قومی دارالحکومت دہلی میں رائے دہی کے اختتام میں اسی وجہ سے تاخیر ہوئی ۔ رائے شماری کے بعد انتخابی نتائج کا اعلان /23 مئی کو ہوگا ۔ آج کے نامور رائے دہندوں میں صدرجمہوریہ رامناتھ کووند ‘صدرنشین یو پی اے سونیا گاندھی ‘ صدر کانگریس راہول گاندھی ‘ جنرل سکریٹری کانگریس پرینکا گاندھی ‘وزیر خارجہ سشما سوراج وغیرہ شامل تھیں ۔Po
ملبورن (آسٹریلیا): میں حسینیہ زہراؐ پیغام کر بلا و فروغ عزاداری کا مرکز
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے سوال: کیا آپ کی حکومت میں عوام کا حقِ معلومات چھین لیا گیا ہے؟
روز عاشور بی بی کا علم کے مقدس جلوس کے لیے تلنگانہ حکومت اپنا مستقل ہاتھی خریدے: ایم بی ٹی کا مطالبہ
تلنگانہ کانسٹیبل کی بیٹی نے انڈین فارسٹ سروس امتحان میں آل انڈیا رینک 119 حاصل کرلی، ڈی جی پی بھگوت آئی پی ایس کی رہنمائی رنگ لے آئی
بی جے پی کی کامیابی پر مودی کا بیان: انتقام نہیں، تبدیلی کی سیاست؛ دراندازوں کے خلاف ایکشن ہوگا


















