نئی دہلی:الیکشن کمیشن نےمتنازعہ تقریروں کےذریعہ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کےمعاملات میں اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اورسابق وزیراعلی اوربی ایس پی کی سربراہ مایاوتی پربالترتیب 72 اور48 گھنٹےکےلئےانتخابی مہم میں حصہ لینےپر پابندی عائد کردی ہے۔کمیشن نےان دونوں لیڈروں کو16 اپریل کی صبح 6 بجےسےانہیں انتخابی مہم میں حصہ لینے، جلسہ عام کرنے، روڈ شومنعقد کرنے، میڈیا کےسامنے بیان دینےاورانٹرویودینے وغیرہ پرپابندی لگائی ہے۔ کمیشن نے یوگی آدتیہ ناتھ کو9 اپریل کومیرٹھ میں قابل اعتراض اورمتنازعہ تقریرکرنےکے معاملےمیں نوٹس جاری کیا تھا جبکہ مایاوتی کودیوبند میں7 اپریل کواشتعال انگیزتقریرکے معاملےمیں نوٹس جاری کیا تھا۔عدالت عظمیٰ نے انتخابی تشہیرکے دوران نفرت آمیزتقریراورمذہبی بنیاد پرووٹ مانگنے والے لیڈروں پرکارروائی نہ کرنے کولے کرالیکشن کمیشن کے محدودطاقت پرناراضگی کا اظہارکیا ہے۔ عدالت نے کمیشن سے منگل صبح 10:30 بجے تک جواب طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ‘آپ ایسے معاملات کو نظراندازنہیں کرسکتے۔ آپ نےایسے بیانات پرکچھ نہیں کیا۔ آپ کوان بیانوں پرضرورکارروائی کرنی چاہئےچیف جسٹس نے کہا کہ وہ اس معاملے کی کل صبح 10:30 بجے سماعت کریں گے اورمنگل کوالیکشن کمیشن کا کوئی نمائندہ موجود رہے۔
اتر پردیش کی 11 ایم ایل سی نشستوں پر بی جے پی اور سماج وادی پارٹی میں سخت مقابلہ
پی ایم آئی نیوز 22 ‘PMI NEWS_Oct 14 تلنگانہ
ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے والی غذائیں
وقف املاک سے مبینہ غیر قانونی قبضے ہٹانے کے لیے HYDRAA کی طرز پر علحدہ محکمہ قائم کرنے شیعہ مسلم فاؤنڈیشن کا مطالبہ
ٹینک بنڈ پر آدھی رات سالگرہ منانے پر پابندی، سی پی سجنار آئی پی ایس


















