نئی دہلی، 16 فروری – پلوامہ حملے کے پیش نظر ہفتہ کے روز منعقد ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں دہشت گردی کی سبھی صورتوں اور پڑوسی ملک سے اسے ملنے والی حمایت کی سخت مذمت کرتے ہوئے سبھی سیاسی جماعتوں نے بہ یک آواز کہا کہ وہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ ہوئی اس میٹنگ میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ایک پیشکش کے ذریعے انہیں حملے سے متعلق معلومات فراہم کرائی گئیں۔
میٹنگ کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر نریندر سنگھ تومر نے صحافیوں سے کہا کہ 14 فروری کو سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے جوانوں پر پلوامہ میں ہوئے اس حملے سے پورا ملک غمزدہ اور مشتعل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں ایک قرارداد منظور کرکے اس حملے کی مذمت کی گئی اور سبھی پارٹیوں نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی اور ملک کی یکجہتی و سالمیت کی حفاظت کے لئے سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کہی۔
قرارداد میں کہا گیا ہے ’’ہم کسی بھی طرح کی دہشت گردی اور سرحد پار سے اسے حاصل ہونے والی سرپرستی کی مذمت کرتے ہیں۔ دہشت گردی سے لڑائی اور ملک کی یکجہتی و سالمیت کی حفاظت میں ہم اپنے سیکورٹی فورسز کے ساتھ متحد ہوکر کھڑے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کو گزشتہ تین دہائیوں سے سرحد پار سے کی جانے والی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ سرحد پار کی طاقتیں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے میں سرگرم رہی ہیں۔ ہندوستان نے ان چیلنجوں کا مضبوطی سے سامنا کیا ہے۔ پورا ملک بہ یک آواز ان چیلنجوں سے نمٹنے کی اپنی عہد بستگی ظاہر کرتا ہے۔
Read more at http://www.uniurdu.com/news/national/story/1501508.html#33U27UrRxYFVcORc.99
سکندرآباد میں غیرمجاز کلینکس پر پولیس کے چھاپے، خود کو ڈاکٹر ظاہر کرنے والے 6 افراد گرفتار
علم سرطوق کا معجزہ ’اورنگ زیب حیران و متاثر۔۔علم سرطوق کو دو بارہ دارالشفا’ میں ایستاد کر نے کا حکم
لال دروازہ بونالو: جدید اے آئی نگرانی اور وسیع تر حفا ظتی انتظا مات۔کمشنر سجنار
ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اپنا رویہ ’درست‘ کرنے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی
سوشل میڈیا بھارت کے خلاف سازشوں کا ذریعہ بن گیا ہے: یوگی آدتیہ ناتھ


















