حیدرآباد ۔ (پریس میڈیا آف انڈیا) کمشنر پولیس شری انجنی کمار نے کہا ہے کےرام نومی کے موقع پرنکالی جانے والی شوبھا یاترا سٹی پولیس کی جانب سے کیے جانے والے انتظا مات میں کوئی کثر باقی نہیں رکئی جائیگی۔سیتا رام باغ میں مندر کے درشن کے بعدوہاں منعقدایک اجتماںع سے مخاطب تھے۔بعد ازاںکمشنر جی ایچ ایم سی جناردھن ریڈی اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کے ہمراہ مرکزی جلوس کے راستے کا معائنہ کیا ۔ کمشنر پولیس نے ایک خصوصی بس میں اپنے ماتحتوں کے ساتھ منگل ہاٹ کے علاقے سیتارام باغ سے اپنے معائنے کا آغاز کیا اور بیگم بازار چھتری ‘ افضل گنج اور دیگر مقامات کا معائنہ کرتے ہوئے شوبھا یاترا کیلئے کئے گئے سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ سٹی پولیس سربراہ نے جلوس کے راستے پر نصب کئے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ پولیس عہدیداراوں کو اس یاترا کو پرامن بنانے کی ہدایت دی ۔ انجنی کمار نے شوبھا یاترا کا انعقاد کرنے والے ذمہ دار کے علاوہ مائتری کمیٹی کے ارکان بعض مسجد کمیٹی کے ارکان سے بھی تبادلہ خیال کیا اور اس تہوار کے موقعہ پر امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ۔ بعد ازاں کمشنر پولیس نے ایک خطاب میں کہا کہ شہر حیدرآباد کو ملک کا
سب میں بہترین شہر قرار دیا گیا ہے اور ایک سروے کمپنی کی جانب سے کئے گئے سروے میں یہ ثابت ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہر یا ریاست کی ترقی کیلئے امن و امان کی برقراری ضروری ہے اور شہر حیدرآباد گنگاجمنی تہذیب کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ /26 مارچ کو منعقد ہونے والے رام نومی شوبھا یاترا کا آغاز منگل ہاٹ سے ہوگا اور اختتام ہنومان وائم شالہ کوٹھی پر اختتام عمل میں آئے گا ۔اس موقع پرمسرز چوہان ( ایڈیشنل کمشنر ) انیل کمار(( ایڈیشنل کمشنر ٹرایفک)ڈاکٹر ترون جوشی جوائینٹ کمیدنر ایس بی) اور وینکٹشنورلو (دی سی پی ویسٹ زون)کے علاوہ ڈاکٹر بھگونت رائو موجود تھے۔
ملبورن (آسٹریلیا): میں حسینیہ زہراؐ پیغام کر بلا و فروغ عزاداری کا مرکز
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی سے سوال: کیا آپ کی حکومت میں عوام کا حقِ معلومات چھین لیا گیا ہے؟
روز عاشور بی بی کا علم کے مقدس جلوس کے لیے تلنگانہ حکومت اپنا مستقل ہاتھی خریدے: ایم بی ٹی کا مطالبہ
تلنگانہ کانسٹیبل کی بیٹی نے انڈین فارسٹ سروس امتحان میں آل انڈیا رینک 119 حاصل کرلی، ڈی جی پی بھگوت آئی پی ایس کی رہنمائی رنگ لے آئی
بی جے پی کی کامیابی پر مودی کا بیان: انتقام نہیں، تبدیلی کی سیاست؛ دراندازوں کے خلاف ایکشن ہوگا


















