Final—-ملبورن (آسٹریلیا): حسینیہ زہراؐ پیغام کر بلا و فروغ عزاداری کا مرکز

ملبورن ، 16مئی (نجف علی شوکت جر نلسٹ- پی ایم آئی) حیدرآباد، بھارت سے تعلق رکھنے والےایک دیندار او عزادار نوجوان، سید محمد مہدی موسوی نے امام حسینؑ کی یاد اور کربلا کے پیغام کو عام کرنے کے لیے آسٹریلیا کے شہر ملبورن ، میں ایک شاندار عاشور خانہ تعمیر کر کے مظلوم کا ئنات سے اپنی گہری محبت و عقیدت کا ثبوت دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان کے ولاو ا’ور عزا ’ پر ایمان کی عکاسی کرتا ہے بلکہ پوری انسانیت کے لیے یہ پیغام بھی ہے کہ کربلا کا درس آج بھی زندہ ہے۔

مظلوم کر بلا حضرت امام حسینؑ کی محبت ان کے دل میں اس قدر رچی بسی ہے کہ غیر ملک میں رہتے ہوئے بھی انہوں نے کربلا کی روح کو زندہ رکھنے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے یہ عظیم مرکزِ عزا قائم کوکیا، جس کا نام “حسینیہ زہرا” رکھا گیا۔ یہ نہ صرف اپنی خوبصورت تعمیر اور روحانی ماحول کی وجہ سے ممتاز ہے بلکہ ان کے مقصد کے اعتبار سے بھی نمایاں ہے۔

“حسینیہ زہرا” کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی خاص قوم، ملک یا مسلک تک محدود نہیں۔ بلکہ یہ دنیا بھر کے تمام شیعہ مسلمانوں کے لیے کھلا ہے۔ زبان، ثقا فت یا قومیت سے بالاتر ہو کر یہ مرکزنہ صرف عزاداری سید الشہدا امام حسینؑ بلکہ اہلیبیت اطہار کی ولا و عزا کے لئے مختص ہے۔۔ یہ عملی طور پر اتحاد، اخوت اور محبت کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ عاشور خانہ صرف مجالس اور جشن کی محفلوں کا مقام ہی نہیں بلکہ نئی نسل کو کربلا کے پیغام ’حق، صبر، قربانی ’اور عدل سے روشناس کرانے کا ایک اہم پلیٹ فارم بھی بن چکا ہے۔ یہاں آنے والے افراد ایک ایسے روحانی ماحول کا تجربہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنی عقیدت کا آزادانہ اظہار کر سکتے ہیں۔

عزا دار کر بلا مہدی موسوی کی یہ شاندار و کا میاب اقدام س بات کی روشن مثال ہے کہ اگر کسی کے دل میں امام حسینؑ کی سچی محبت ہو تو فاصلے، سرحدیں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ کربلا صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک ہے جو ہر دور میںانسان حق کی طرف جانے میں ِ رہنمائی کرتی ہے

۔ حقیقت میں “حسینیہ زہرا” محض ایک عمارت نہیں بلکہ امام حسینؑ سے محبت کی زندہ علامت ہے، جو ملبورن کی سرزمین پر کربلا کے پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھنے کا مر کز بنا رہے گا۔“حسینیہ زہرا” کو جدید ٹیکنالوجی سے بھی آراستہ کیا گیا ہے تاکہ عزاداری اور جشن کی محافل کو براہِ راست ٹیلی کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے ایک جدید ویڈیو روم قائم کیا گیا ہے، جبکہ اعلیٰ معیار کا آڈیو سسٹم حاضرین کو بہترین آواز فراہم کرتا ہے۔
ان سہولیات کے ذریعے دنیا بھر میں اہلِ بیتؑ کے چاہنے والےتما م روحانی پروگراموں سے مستفیدہو رہے ہیں۔

ہر شب جمعہ نماز عشاء کے بعد دعا ؤں کا سلسلہ رہتا ہےبعد ازاں جشن یا مجلس آراستہ کی جا تی ہے،جس میں اہلِ ایمان نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ اہلِ بیتؑ کی محبت و عقیدت “حسینیہ زہرا” میں نمایاں نظر آتی ہے، جہاں اہلِ بیت کی ولادت کے موقع پر نہایت احترام کے ساتھ خوشی کی محافل منعقد کی جاتی ہیں، جبکہ ان کی شہادت کے ایام میں مجالسِ عزا برپا کی جاتی ہیں

۔ ان تقریبات میں حضور اکرم ﷺ اور ان کے اہلِ بیتؑ کی یاد سے فضا معطر ہو جاتی ہے، اور عقیدت مند اپنی محبت و احترام کا دل سے اظہار کرتے ہیں۔آج یہ عاشور خانہ میلبورن میں اہلِ بیتؑ کی محبت، مومنین کے اتحاد، اور دینی و روحانی بیداری کا ایک مرکز بن چکا ہے۔

محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی “حسینیہ زہرا” کی فضا گہرے غم اور عقیدت میں ڈوب جاتی ہے۔ اس بابرکت مہینے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ پہلے دس دنوں میں علم نصب کیے جاتے ہیں، جو واقعہ کر بلا کی یاد تا زہ کرتے ہیں۔ عقیدت مند احترام کے ساتھ علم کی زیارت مشرف ہو تے ہیں اور اپنی نیاز و نذورات بھی پیش کرتے ہیں۔

شبِ عاشورا کا منظر انتہائی جذباتی اور روحانی ہوتا ہے، جہاں رات بھر مجالس اور عزاداری جاری رہتی ہے۔ جس طرح حیدر آباد دکن میںما تمی انجمنیں اور گروہان گشت کرتے ہو ئے عاشور خانوں اور امام بارگاہوں میں ماتم کا نذرانہ پیش کر تے ہیں ۔
۔ اسی طرح یہاں بھی مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے عزادار و ما تمی دستے ہیں اور نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ پرسہ پیش کرتے ہوئےنو حہ خوانی و سینہ زنی کر تے ہیں۔

روزِ عاشورا بھی یعنی امام حسینؑ کی شہادت کے دن“حسینیہ زہرا” میں خصوصی مجالسِ عزابر پا ہوتی ہیں۔ اس موقع پر عزادار نہایت احترام کے ساتھ اعمالِ عاشورا ادا کرتے ہیں، نوحہ و ماتمکے ساتھ ساتھ ، اورزبان اشک سے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

قائم آل محمد ؐامام عصر کا لا کھ لاکھ احسان اور شکر ادا کر تے ہو ئے مہدی موسوی نے بتایا کے یہ عزا خانہ تقریباً 1,500 مربع میٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ خواتین کے لیے علحٰدہ کشادہ ہال بنایا گیا ہے۔ اس خیال سے کے ان کے ساتھ طفل (بچّے)رہتے ہیں۔اور انھیں رد کار سہو لتوں کے لئے مناسب انتظام بھی ہے۔

عاشور خانہ حسینیہ زہراؑ کے بانی مہدی موسوی نے مزیدکہا کے حسینیہ زہرا ( قصرِ حسینؑ‘‘)کی تعمیر صرف 35 دنوں میں مکمل کی گئی۔ تقریباً دو سال قبل عیدِ غدیر کے پُرمسرت موقع پر اس کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذہبی اجتماعات اور تقریبات کے علاوہ حسینیہ زہراؑ میں نکاح اور شادی کی تقاریب کے لیے بھی
سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جن سے مومنین بڑی تعداد میں استفادہ کر رہے ہیں۔

مہدی موسوی کے مطابق یہاں ہر سال 150 سے زائد مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ ماہِ رمضان المبارک میں روزانہ افطار اور طعام کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چار دن افطار کا انتظام وہ خود کرتے ہیں جبکہ باقی 26 دنوں کے لیے کمیونٹی کے تعاون سے انتظامات انجام دیے جاتے ہیں۔

مضمون نگار نےارض دکن کےما یا ۔از سپوت مہدی مو سوی کا تعارف کر وا ناضروری سمجھا، کیونکہ ان کی خدمات اور کاوشیں حسینیہ زہراؑ کے ذریعے دینی و سماجی سرگرمیوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔اس عاشور خانہ کے با نی مزید بتایا کہ اس شاندار ’’قصرِ حسینؑ‘‘ کی تعمیر صرف 35 دنوں میں مکمل کی گئی۔ تقریباً دو سال قبل عیدِ غدیر کے پُرمسرت موقع پر اس کا باقاعدہ افتتاح عمل میں آیا۔

خادمِ عزا مہدی موسو ی ایک ایسے گھرانے نےسے تعلق رکھتے ہیں جو دینی، علمی اور ادبی روایات کا امین رہا ہے۔ انہیں نوحہ خوانی اور شاعری کا فن اپنے خاندان سے وراثت میں ملا ہے۔ وہ ملبورن، آسٹریلیا میں حیدر آباد دکن (ہندوستان)کی معروف ما تمی تنظیم گرو گروہ شیدائے شبیرّؑکے بانی و صاحب بیاض بھی ہیں

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذہبی اجتماعات اور تقریبات کے علاوہ حسینیہ زہراؑ میں نکاح اور شادی کی تقاریب کے لیے بھی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، جن سے مومنین بڑی تعداد میں استفادہ کر رہے ہیں۔ مہدی موسوی کے مطابق یہاں ہر سال 150 سے زائد مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ ماہِ رمضان المبارک میں روزانہ افطار اور طعام کا خصوصی انتظام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چار دن افطار کا انتظام وہ خود کرتے ہیں جبکہ باقی 26 دنوں کے لیے کمیونٹی کے تعاون سے انتظامات انجام دیے جاتے ہیں۔

ہیں۔مہدی موسوی کے مطابق حسینیہ زہراؑ کے قیام کے ابتدائی تصور سے لے کر اس کی تعمیر اور افتتاح تک، ان کی اہلیہ نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی اہلیہ مرحوم سید رضا علی ہاشم کی صاحبزادی ہیں، جو حیدرآباد میں شہزادیٔ کونین حضرت بی بی فاطمہ زہراؑ کی شہادت کی سوگ میں بر پا ہونے والی مرکزی مجالس کے بانی ہیںانہی مجا لس سے ایام فا طمی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے

۔مسٹر موسوی نے مزید بتا یاکہ ان کی اہلیہ کی مسلسل حوصلہ افزائی اور تعاون نے ان کے عزم اورارادہ کو حقیقت میں بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس عزاخانے میں ہندوستان اور پاکستان کے معروف علماء، ذاکرین، نوحہ خوانوں کو ذکر اہلیبیت کا شر ف حا صل ہوا ہے۔انشا اللہ یہ مقدس روایت آئندہ بھی اسی طرح جاری و ساری رہے

گیان کے پردادا جناب فا صل موسوی مرحوم ہندوستان و پاکستان کے معروف شعراء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا مشہور قصیدہ ’’خدا کا ولی میرا مولا علیؑ‘‘ مو لود کعبہ حضرت امام علی کی ولادتِ کے موقع پر منعقد ہونے والی محافل میں عقیدت و احترام سے پڑھا جاتا ہے۔ان کے چچا رضا موسوی بھی حیدرآباد دکن کے سینئر شعراء میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جبکہ ان کے والد محترم سید محمد ہاشم مو سو یحیدرآباد دکن کی ما تمی تنظیم گروہ شیدائے شبیرؑ کے ؑنو حہ خوان ہب نے کے ساتھ گروہ کے با نیان میں شا مل ہیں۔ان کی والدہ محترمہ اور بہن بھی مرثیہ و نوحہ خوانی کے فن سے وابستہ ہیں اور ملبورن میں بھی اس عظیم روایت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ (pressmediaofindia.com)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں