آندھرا پردیش کے چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اداکارہ سے سیاست داں بنی آر کے روجا کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔جس پر مختلف حلقوں میں حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے ۔پارٹی کی شعلہ بیان قائدآر کے روجا رکن اسمبلی کو کابینہ میں جگہ نہ دئے جانے پر کئی افراد حیرت زدہ ہیں۔تمام سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگار جن میں وائی ایس آر سی پی کے قائدین بھی شامل ہیں۔فلمی اداکارہ کو یقینی طور پر جگن موہن ریڈی کی کابینہ میں شامل کئے جانے کی توقع تھی ۔آر کے روجاجو کہ حلقہ ناگیری کی کی نمائندگی کرتی ہیںاور دومرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوچکی ہیں۔ان کا نام اُن وزرا کی فہرست میں شامل نہیں تھاجنہوں نے آج حلف لیا۔روجا کو کابینہ میں شامل کئے جانے کے تعلق سے تذکرے کئے جاتے رہیں ۔ اُن کے پرستاروں اور حامیوں کو یہ توقع تھی کہ یقینی طور پر روجا کابینہ میں شامل کی جائیں گی اور انہیں وزرات داخلہ کا قلمدان دئیے جانے کی بھی پیش قیاسی کی گئی تھی ۔ کل شام دیر گئے اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے روجا نے اس اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ انہیں مجلس وزراء میں یقینی طور پر شامل کیا جائے گا ۔وائی ایس آر سی پی کے سینئر قائدین نے کہا کہ رکن اسمبلی آر کے روجا کا تعلق ریڈی طبقہ سے ہے ۔اور چیف منسٹر جگن موہن ریڈی مجلس وزراء میں توازن برقرار رکھنے کے خواہاں ہے ۔وہ تمام طبقات کو مساوینہ نمائندگی دینے کیلئے کوشش کررہے ہیں۔چیف منسٹر نے ریڈی طبقہ سے تعلق رکھنے والے 4ارکان اسمبلی کو کابینہ میں شامل کیا ہے اور اب کسی مزید شخص کو جس کا تعلق ریڈی طبقہ سے ہو کابینہ میں نمائندگی دینا نہیں چاہتے ۔اس دوران وائی ایس آر سی پی کے ذریعہ نے بتایا کہ چیف منسٹرنے وعدہ کیا ہے کہ آر کے روجا کو وزارت کی بجائے کوئی دوسرا اہم عہدہ دیں گے ۔
نجمن سقائے سکینہؐ کی مرکزی انجمن میں دوبارہ شمولیت کی درخواست منظور حیدرآباد (18 اپریل): شہر حیدرآباد کی قدیم ماتمی تنظیم انجمن سقائے سکینہؐ کی بحالی کے بعد اس کی مرکزی انجمن ماتمی گروہان میں دوبارہ شمولیت کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن کے بانی و صدر سید اصغر علی خاں اور جنرل سکریٹری محمد یوسف نے مرکزی انجمن ماتمی گروہان کے صدر سید نجف علی شوکت سے ملاقات کی اور تنظیم کی دوبارہ شمولیت کے لیے باقاعدہ درخواست پیش کی۔ مرکزی انجمن کے صدر سید نجف علی شوکت نے درخواست کو قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو محرم الحرام سے قبل منعقد ہونے والے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ واضح رہے کہ انجمن سقائے سکینہؐ کا قیام 1978 میں عمل میں آیا تھا اور یہ ماضی میں شہر کی نمایاں اور فعال ماتمی انجمنوں میں شمار ہوتی رہی ہے۔ انجمن سے وابستہ معروف شخصیات میں سید علمدار نجفی نوحہ خوانی کے حوالے سے پہچانے جاتے تھے، جبکہ آغا محمد شیرازی نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے مرثیہ و نوحہ خوانی میں بھی حصہ لیتے تھے۔ ہر سال 5 ربیع الاول کو انجمن کی روایتی وداعی مجلس منعقد کی جاتی تھی۔ ماتمی حلقوں کی جانب سے انجمن کی دوبارہ تنظیمی فعالیت اور مرکزی انجمن میں شمولیت کو ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تلنگانہ میں جن سینا پارٹی کی رکنیت سازی مہم تیز، تنظیمی ڈھانچہ مضبوط بنانے پار ٹی قا ئدین سر گرم
بھا ئی نے کیا بھا ئی کا قتل
جمعہ کے روز ایران میں کم از کم 640 حملے کیے گئے: انسانی حقوق کی تنظیم کا دعویٰ
ایرانیوں کی نمازِ عید کی ادائی، پاسداران انقلاب کے ترجمان کے جنازے میں شرکت


















