نئی دہلی مارچ (پی ایم آئی) :حال ہی میں مرکز کی مودی حکومت کے ذریعہ پیش کیے گئے نئے انکم ٹیکس بل کو لے کر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نئے ٹیکس بل میں کئی بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاکہ قوانین کو مزید آسان اور سہل بنایا جا سکے۔ حالانکہ نئے بل میں کچھ ایسے اصول موجود ہیں جن پر لوگوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس نے بھی اس تعلق سے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مودی حکومت کا نیا انکم ٹیکس قانون رازداری پر براہ راست حملہ ہے۔
کانگریس نے نئے انکم ٹیکس قانون سے متعلق سامنے آ رہیں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر کچھ ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔ ایک ویڈیو پیغام کانگریس ترجمان سپریا شرینیت کا ہے جو مودی حکومت پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’انہوں نے پیگاسس کے ذریعہ ہماری جاسوسی کی۔ اب وہ ہماری ذاتی زندگی کو پوری طرح سے چھین لیں گے۔ مودی کے نئے انکم ٹیکس قانون کے تحت حکومت خاموشی سے ٹیکس حکام کو آپ کی ڈیجیٹل زندگی میں داخل ہونے کا اختیار دے رہی ہے۔ کوئی وارنٹ، کوئی نوٹس نہیں، یہ قانون صرف شبہ کی بنیاد پر آپ کی رازداری چھیننے کے لیے کافی ہے۔‘‘ اس ویڈیو میں سپریا شرینیت نے سخت انداز میں کہا ہے کہ ’’یہ نگرانی ہے، اور ہم سبھی کو بلاتفریق اس (قانون) کی مخالفت کرنی چاہیے۔
کانگریس نے ایک دیگر پوسٹ میں نئے انکم ٹیکس قانون سے متعلق کچھ اہم باتیں سامنے رکھی ہیں۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ’’مودی حکومت نیا انکم ٹیکس قانون لا رہی ہے۔ خبروں کے مطابق اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد انکم ٹیکس افسران کو آپ کے ڈیجیٹل اکاؤنٹ تک پہنچنے کا حق مل جائے گا۔ حکومت کا افسر آپ کے ای میل، سوشل میڈیا، بینک اکاؤنٹ، ٹریڈنگ اکاؤنٹ کو جب چاہے چیک کر سکتا ہے، بس اسے شبہ ہونا چاہیے۔‘‘ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’یہ بے حد خطرناک ہے۔ مودی حکومت پہلے ہی ایجنسیوں کا غلط استعمال کرتی آ رہی ہے، اب اس قانون کی بدولت وہ جسے چاہے پریشان کر سکتی ہے، برباد کر سکتی ہے(PMI)
]]>پو لیس کے مطا بق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ہاسٹل میں مقیم ایک خاتون کو موبائل چارجر میں چھپا ہوا کیمرہ ملا۔ اس انکشاف کے بعد جب مزید چھان بین کی گئی تو ہاسٹل کے دیگر مقامات پر بھی خفیہ کیمروں کی موجودگی کا شبہ پیدا ہو گیا۔ امین پور پولیس نے بتا یا کے، بنڈارو پرمیشور نامی شخص امین پور کے مائیتری ولاز میں یہ ہاسٹل چلا رہا تھا۔
ہاسٹل طالبات نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا۔ دورانِ تفتیش پولیس نے چارجر کیمرے میں چِپ برآمد کی، جس کے بعد ہاسٹل کی مکمل تلاشی کا آغاز کر دیا گیا۔ خاص طور پر پولیس نے واش رومز اور دیگر حساس مقامات کی باریک بینی سے جانچ شروع کر دی تاکہ مزید خفیہ کیمروں کا پتہ لگایا جا سکے۔
پولیس برآمد شدہ کیمروں میں موجود ویڈیوز کی بھی جانچ کر رہی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا یہ ریکارڈنگز کسی اور کو بھیجی گئی یا نہیں۔یہ واقعہ سا منے آنے گہری تشویش کا اظہار کر تے ہوئےطالبات نے سخت احتجاج اور ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی مانگ کی۔تا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔پو لیس امین پور اس غیر اخلاقی حرکت کی تحقیقات کر رہی ہےشبہ کیا جا رہا ہے کے اس کیس میں مزید انکشا فات ہو سکتے ہیں۔(PMI)
]]>انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیررکشا کھڑسے کی بیٹی کے ساتھ ہونے والی چھیڑخانی کا واقعہ ظاہرکرتا ہے کہ عام خواتین تو درکنار، وی آئی پیزبھی محفوظ نہیں ہیں۔ رحمت النساء نے اس بحران کے اخلاقی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “چھیڑخانی اور بدتمیزی کے ہزاروں غیر رپورٹ شدہ کیسز معاشرے میں گہرے اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند یہ سمجھتی ہے کہ حقیقی ترقی خواتین کی حفاظت، عزت، اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ میں مضمر ہے۔ قوانین کا مؤثر نفاذ ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاح بھی لازمی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‘تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں’ ہم حکومت، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خواتین کے احترام کے ماحول کو فروغ دیں اور علامتی اقدامات سے آگے بڑھ کر خواتین کو ان کا جائز مقام دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
]]>وقف بل میں میں غیر مسلم رہنما کو بھی شامل کیا گیا ہے۔مرکزی حکو مت کے ذرائع کے مطا بق این ڈی اے حکو مت کا کہنا ہے کہ یہ لیڈران عوام کے ذریعہ منتخب ہوکر آتے ہیں اس لئے ان کا مذہب سے زیادہ عوام کی بھلائی کے لئے کام کرنا مقصد ہوتا ہے۔۔ذرائع کا کہنا ہے کہ این ڈی اے حکومت اس بل کے ذریعہ ر غریب مسلمان خاص کر مسلم خواتین اور یتیموں کو انصاف فراہم کر نا چاہتی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وقف کے پاس زمین بہت ہے مگر اس پر کچھ خاص لوگوں کا قبضہ ہے۔ اس بل کا مقصد وقف املاک کو ناجائز قبضوں سے آزاد کرانا ہے۔ ملک میں ڈیفنس اور انڈین ریلوے کے بعد سب سے زیادہ اراضی وقف بورڈ کے پاس ہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ دونوں اراضیات سرکاری ہیں جبکہ وقف بورڈ غیر سرکاری ہے۔
جب کہ اقلیتی رہنماؤں کا الزام ہے کہ حکومت اس بل کے ذریعہ وقف بورڈ کے اختیارات کو ختم کرنا چاہتی ہے اور اس کی مدد سے وہ اپنے بھگوا ایجنڈے کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
جبکہ مودی حکومت وقف بورڈ کو دیے گئے اختیارات کو کم کرنے اور اس کے نظام کو شفاف بنانے کے لیے بل میں ترمیم کرنے جا رہی ہے۔ اس میں مسلم سماج کے دیگر پسماندہ طبقات بشمول مسلم خواتین، شیعہ، سنی، بوہرہ اور آغاخانی جیسے طبقات کو بھی نمائندگی دینے کی بات کی گئی ہے۔
واضح رہے کے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) نے 28 جنوری کو وقف بل 1995 کی 14 شقوں/حصوں میں ترامیم کے ساتھ منظوری دے دی تھی۔
جبکہ بل میں 572 ترامیم کی تجاویز پیش کی گئیں تھی جن میں سے 44 ترامیم پر بحث ہوئی اور اکثریت کی بنیاد پر کمیٹی نے این ڈی اے
اراکین کی 14 ترامیم کو منظور کر لیا۔ جے پی سی میں شامل اپوزیشن ارکان کی تمام مجوزہ ترامیم کو ووٹنگ کے دوران 10 کے مقابلے میں 16 ووٹوں سے مسترد کر دیا گیا۔
یاد ہوگا کے اپوزیشن شروع ہی سے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ اپوزیشن گزشتہ مہینوں میں ہوئی جے پی سی کی کئی میٹنگوں میں بل کی مخالفت کی ہے۔
مر کزی حکومت بھی اس بل کو لیکر بہت سنجیدہ ہے اور اس میں بڑی ترمیم کرنا چاہتی ہے۔ اسی سلسلے میں آج بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے وقف ایکٹ 1995 میں ترمیم کے لیے لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل 2024 پیش کر دیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس بل کا مقصد ریاستی وقف بورڈ کے اختیارات، وقف املاک کے رجسٹریشن اور سروے اور تجاوزات کو ہٹانے سے متعلق مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کرنا ہے۔ (PMI)
]]>نئی دہلی ’7مارچ۔ ملک کی راجدھانی دہلی کے سیلم پور کے علاقے میں ایک غیر مسلم حاتون نےرمضان المبارک کے پیش نظر مسجد کی سجاوٹ کے لئے عطیہ دیا۔واضح رہے کے سلم پور ایک مسلم اکثریت والا علاقہ ہے۔
ایک ہندو خاتون کے اس قدم نے جہاں سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو وائرل کر دیا ہے، وہیں ملک کو یہ پیغام دیا ہے کہ ہندو مسلم اتحاد سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہے یہی ہماری ملک کی تہذیب ہے اور قدیم روایت کو ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک یوٹیوبر مسلم اکثریت علاقے میں مسلمانوں کی رمضان المبارک کے تئیں تیاریوں کو دکھانے کے ساتھ ان کے مسائل اور سیاست پر بات چیت کر رہا ہے، اسی دوران انکشاف ہوتا ہے کہ ایک خاتون مسجد میں چندہ دینے کے لیے آئی ہیں
یوٹیوبر خاتون سے دریافت کرتا ہے کہ کیا مسلم اکثریت علاقوں میں ہندو دب کر رہتے ہیں تو اس خاتون نے برجستہ جواب دیا کہ کیوں دب کررہیں گے، سب مل کر رہتے ہیں، یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہے
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ مسلم نوجوان علاقے میں کھڑے ہوئے ہیں، جن میں دو مولوی حضرات بھی ہیں، اس دوران ایک ہندو خاتون جو کچھ فاصلے پر کھڑی تھی، انہیں جب قریب بلایا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ مسجد کی سجاوٹ کے لیے پیسے دینے آئی ہیں، اس دوران انہوں نے ہاتھ بڑھا کر مسجد کے لیے پیسے دیے، جسے ایک مولوی صاحب نے مسکراتے ہوئے قبول کر لیا، جب خاتون سے دریافت کیا گیا کہ کیا اپ مسجد کی سجاوٹ کے لیے پیسے دے رہی ہیں تو خاتون نے جواب دیا کہ جی ہاں اس میں کیا حرج ہے ہم یہیں پر رہتے ہیں اور ایک ساتھ زندگی گزارتے ہیں
ویڈیو میں یوٹیوبر مسلمانوں سے مختلف موضوعات پر بات کرتا ہوا نظر اتا ہے جن میں پتھر بازی سے تعلیم تک کے موضوع تھے روزگار پر بھی بات کی جا رہی تھی، عام لوگوں کی رائے سامنے لائی جا رہی تھی، اسی دوران اس واقعے نے پورے ویڈیو میں ایک نئی جان پیدا کر دی، وہ ویڈیو ایک پیغام بن گیا مذہبی رواداری کی مثال بن گیا،ہندو مسلم اتحاد کا نمونہ بن گیا ، پورے ملک کے لیے ایک پیغام دے گیا۔
]]>جموں وکشمیر میں 35 سال سے جب مسلح تحریک کا آغاز ہوا اور کشمیری پنڈتوں کی وادی سے ہجرت ہوئی، ضلع اننت ناگ کے قصبہ بجبہارہ میں ایک مسلم خاندان ایک مندر کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔سیب کے باغات کے درمیان واقع جیا دیوی مندر (شکتی استھل ماتا جیا دیوی) قصبے کے بلند مقام پر واقع ہے، جہاں سے سرسبز کھیتوں اور باغات کا حسین نظارہ ہوتا ہے۔ یہ مندر پرانے سری نگر-جموں قومی شاہراہ پر ہے، جو اب این ایچ 44 کے نام سے جانی جاتی ہے۔
بجبہارہ اپنے چنار کے درختوں کے لیے مشہور ہے، خصوصاً پادشاہی باغ اور دارا شکوہ پارک جو دریائے جہلم کے دونوں کناروں پر موجود ہیں۔مرکزی شاہراہ سے ایک لنک روڈ مندر تک لے جاتا ہے جو ایک خوبصورت علاقے کریوا کالونی کے آخر میں واقع ہے۔ بجبہارہ میں یہ واحد مندر نہیں ہے، بلکہ یہاں کئی دیگر مندر بھی ہیں، جیسے ویجیشور مندر، ہر جی لال مندر اور ٹیلی محلہ میں واقع ایک اور مندر۔ ان مندروں میں سے کچھ کی دیکھ بھال مقامی مسلمان کر رہے ہیں، خاص طور پر 1989-90 میں کشمیری پنڈتوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت کے بعد۔ مندر کی دیکھ دیکھ مسلمانوں نے کی
ہم اس مندر (جیا دیوی) کی دیکھ بھال اس وقت سے کر رہے ہیں جب سے ہمیں یہ ذمہ داری دی گئی_ ان خیالات کا اظہار مقامی رہائشی پرویز احمد شیخ نے آواز-دی وائس سے بات چیت کرتے ہوۓ کیا۔انہوں نے کہا کہ مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ہمسایوں کی جائیداد کی حفاظت کریں، جنہوں نے ہم پر بھروسہ کیا، یہ ذمہ داری پہلے ان کے والد غلام نبی شیخ نے سنبھالی، جو اب جموں و کشمیر حکومت کی ملازمت سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔ پرویز احمد کے بھائی بلال احمد شیخ نے بھی ابتدائی سالوں میں اپنے والد کی مدد کی۔ بلال احمد کے مطابق،شروع کے سالوں میں یہ بہت مشکل تھا، لیکن وقت کے ساتھ حالات بہتر ہوتے گئے اور اب کافی حد تک بدل چکے ہیں۔
سالانہ تہواروں کے موقع پر کشمیری پنڈت، جو وادی سے ہجرت کرچکے ہیں اور کچھ جو کشمیر کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، مندر میں پوجا کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ پرویز احمد نے بتایا کہ یہ پنڈت ہجرت کے بعد بھی ان تہواروں کے دوران یہاں آتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امر ناتھ یاترا، نوراتری، مہا شیوراتری اور رکشا بندھن کے مواقع پر تقریباً 100 سے 150 عقیدت مند مندر میں پوجا کے لیے آتے ہیں۔
قصبے کے دیگر مندروں میں شامل ہیں
ایکادش رودر مندر (ہریش چندر گھاٹ پر)
ماتا وجیا دیوی شکتی استھل (دریائے جہلم کے بائیں کنارے پر)
ویجیشور دیوستھان ٹرسٹ (سابقہ دیوستھان پر بندھک کمیٹی) کے ویریندر موہن بھٹ نے آواز-دی وائس سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بجبہارہ ہندوؤں، خاص طور پر کشمیری پنڈتوں کے درمیان ‘منی کاشی’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مسلم خاندان کئی دہائیوں سے جیا دیوی مندر کی دیکھ بھال کر رہا ہے اور تہواروں کے دوران عقیدت مندوں کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے۔یہ مندر چھ کنال سے زیادہ زمین پر محیط ہے، جسے گزشتہ سال باڑ لگا کر محفوظ بنایا گیا اور کچھ زمین کو تجاوزات سے پاک بھی کیا گیا۔
جبہارہ کی تاریخی اہمیت
مشہور مورخ کلہن نے اپنی کتاب راج ترنگنی میں لکھا ہے کہ بجبہارہ قصبے کی تعمیر راجہ وجے آنند نے ویجیشور مندر کے ارد گرد کی تھی، اور اسی وجہ سے قصبے کا نام بجبہارہ پڑا۔ اس مندر اور قصبے کا ذکر نیل مت پران، کلہن کی راج ترنگنی اور تاریخ حسن میں بھی ملتا ہے۔بجبہارہ، جو اپنے گھنے چناروں کے لیے مشہور ہے، کئی مسلم زیارت گاہوں کا بھی مرکز ہے۔ ان میں سب سے مشہور زیارت بہاء الدین گازی رحمتہ اللہ علیہ کی ہے، جو کہ سہروردیہ سلسلے کے صوفی، شاعر اور عالم تھے۔ یہاں سالانہ عرس کے موقع پر دمبلی کا انعقاد ہوتا ہے۔
نادی مرگ کا ارادے نریشور مندر 20 سال بعد کھلا
دریں اثنا، جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں واقع نادی مرگ گاؤں کے ارادے نریشور مندر کو 5 اکتوبر 2023 کو 20 سال بعد دوبارہ کھولا گیا، جو ایک اہم روحانی اور ثقافتی موقع تھا۔ یہ مندر 23 مارچ 2003 کی رات کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں 24 کشمیری پنڈتوں کے قتل کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
دراصل5 اکتوبر 2023 کو، کشمیری پنڈت برادری کے عقیدت مندوں نے مندر میں پوجا کی اور مورتی استھاپنا (مورتی کی تنصیب) پوجا مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ ادا کی۔
انتظامیہ کا تعاون
ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کولگام، اتھر عامر خان نے مندر کا دورہ کیا، عقیدت مندوں سے ملاقات کی اور انہیں انتظامیہ کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ضلع انتظامیہ نے نادی مرگ تک سڑک تعمیر کی اور علاقے میں مزید ترقیاتی منصوبے شروع کیے۔
سابقہ ڈپٹی کمشنر شوپیاں، محمد شاہد سلیم ڈار نے بھی مندر کا دورہ کیا، جہاں کشمیری پنڈت برادری کے افراد نے پوجا میں شرکت کی۔یہ پوجا تقریب 20 سال کے وقفے کے بعد منعقد ہوئی، جسے امن اور خوشحالی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔تقریب میں مقامی مسلم کمیونٹی اور ضلعی و سب ڈویژنل حکام نے بھی شرکت کی۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئیں۔ڈپٹی کمشنر نے کشمیری پنڈتوں کے خالی گھروں اور اراضی کا بھی دورہ کیا اور ان کی فلاح و بہبود کے متعلق مسائل سنے، جس میں کمیونٹی ہال یا یاترا بھون کی تعمیر کا مطالبہ شامل تھا۔ ڈی سی نے فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔
]]>نئی دہلی،7ارچ (پی ایم آئی) ملک کے دارالخلا فہ میں ایک سڑک کے نام کو لیکر ایک بار پھر تنازچہ کھڑا ہو گیا۔دہلی میں اکبر روڈ کا نام تبدیل کرنے کےکی مانگ کےساتھ گئو رکشا دل اور ہندو رکشا دل کے کارکنوں نے نہ صرف اکبر روڈ کے سائن بورڈ پر کالک پوتی لگائی ، بلکہ اسے چھترپتی سنبھاجی مہاراج مارگ قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران گئو رکشا دل اور ہندو رکشا دل کے لوگوں نے استعال انگیز پوسٹر بھی لگایا جس میں مغلوں کے بارے میں متنازعہ باتیں لکھی گئی تھیں۔
گئو رکشا دل اور ہندو رکشا دل کے پوسٹروں میں مغلوں پر ہندوؤں کے قتل عام، مندروں کو تباہ کرنے اور جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوؤں کو ان واقعات کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کرنا چاہیے۔ عوام مغلوں کے نام سے منسوب سڑکوں کے خلاف احتجاج کریں۔
پوسٹر میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ‘چھاوا’ کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں اورنگزیب کو دکھایا گیا ہے۔ جس میں اورنگزیب کی تصویر کشی کی گئی ہے ،وہیں اس واقعہ میں اکبر کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے ان مظاہرین کی معلومات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کالک پوتنے کی ذمہ داری لیتے ہوئے، گئو رکشا دل کے دکش چودھری نے اے بی پی نیوز کو بتایا، “موجودہ حکومت نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ ہماری سڑکوں پرلٹیروں کے نام کیوں ہیں؟ اکبر نے مذہب تبدیل کروایا تھا۔ این سی ای آر ٹی کی کتابیں بھی اکبر، بابر اور اورنگ زیب کے بارے میں لکھا ہے۔ ہم نے فلم ‘چھاوا’ میں بھی یہی دیکھا کہ مغلوں نے کس طرح نسل در نسل حکومت کی۔ ہم نے تلوار کےدم پر شلوار نہیں پہنی‘‘۔ کالک پوتنے والے دکش چوہدری نے مزید کہا کہ ہم جیل بھی جائیں تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
گئو رکشا دل کے وجے راج، جو اس واقعے میں ملوث تھے، انہوں نے کہا، “اگر ہم نے کالک کو مسل دیا ہے تو کیا مسئلہ ہے؟ اکبر کا نام ہٹانے میں کیا حرج ہے؟ ہمارے اسلاف پر ظلم کرنے والوں کے نام سڑکوں پر کیوں رہیں؟ اگر ہمارے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو یوگی جی کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے خلاف بھی مقدمہ درج ہونا چاہیے۔‘‘
دہلی میں تاریخی شخصیات کے نام پر سڑکوں کے نام تبدیل کرنے کو لے کر پہلے بھی کئی بار تنازعہ ہو چکا ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ہندو تنظیموں کے لوگوں نے بابر اور ہمایوں روڈ کے سائن بورڈ کو بھی سیاہ کر دیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت اس پر کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ معاملہ صرف احتجاج تک ہی محدود رہے گا۔ (PMI)
]]>آپ کو بتا دیں کہ ونڈسر کیسل (Windsor Castle) برطانیہ کا ایک تاریخی قلعہ ہے، جو برک شائر میں دریائے ٹیمز کے کنارے واقع ہے۔ یہ قلعہ دنیا کے سب سے قدیم اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والے شاہی محلات میں شمار ہوتا ہے۔ ونڈسر کیسل آج بھی برطانوی بادشاہ کی رہائش گاہ ہے اور سیاحوں کے لیے بھی کھلا رہتا ہے۔ یہاں شاہی تقریبات، فوجی پریڈز، اور خاص مواقع پر عوامی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ قلعہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں شاہی تاریخ، ثقافت اور ورثے کی ایک اہم علامت ہے
کنگ کو افطار کی دعوت
ایک مہمان نے کنگ چارلس کو افطار میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی دن، کسی بھی وقت! رمضان کے 30 دن ہیں، ہمیں بس آپ کے تیار ہونے کا انتظار ہے۔رمضان ٹینٹ پروجیکٹ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو عمر صلحہ نے کہا کہ کنگ چارلس بین المذاہب ہم آہنگی کے زبردست سفیر ہیں،برطانوی مسلم کمیونٹی کے لیےان کی حمایت پر ہم بے حد شکر گزار ہیں۔
مذہبی رواداری کا نمونہ
ونڈسر کیسل میں افطار ایونٹس سب کے لیے کھلے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا پس منظر سے ہو۔ رمضان کے پورے مہینے کے دوران انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں ایسے اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں
کیا ہے ونڈسر کیسل کی تاریخی اہمیت
ونڈسر کیسل برطانوی شاہی خاندان کی قدیم ترین اور تاریخی رہائش گاہ ہے اور دنیا کا سب سے بڑا قلعہ مانا جاتا ہے۔ اس کی تعمیر 1066 میں ولیم فاتح نے شروع کروائی، تاہم 1110 سے اسے شاہی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یہ قلعہ 40 سے زائد بادشاہوں کی رہائش گاہ رہا ہے اور یورپ میں طویل ترین عرصے تک زیرِ استعمال قلعہ ہے۔یہ برکشائر، انگلینڈ میں واقع ہے اور تقریباً 13 ایکڑ پر محیط ہے۔ قلعے میں 1000 سے زائد کمرے، 500 سے زیادہ ملازمین اور ایک 2.65 میل لمبی شاہی راہداری موجود ہے۔ ہینری Iنے اسے شاہی رہائش گاہ بنایا، جبکہ ہینری II، ایڈورڈ III، چارلس IIاور دیگر بادشاہوں نے اس میں مزید توسیعات کروائیں۔ 19ویں صدی میں اس میں البرٹ میموریل چیپل کا اضافہ کیا گیا۔
یہ قلعہ نہ صرف شاہی محل بلکہ ماضی میں فوجی چھاؤنی اور جیل بھی رہا ہے۔ یہاں سینٹ جارج چیپل بھی موجود ہے، جہاں پرنس ہیری اور میگھن مارکل کی شادی ہوئی۔ شیکسپیئر نے بھی اپنے ڈرامے *Merry Wives of Windsor* میں اس قلعے کا ذکر کیا۔یہ ملکہ الزبتھ دوم کی پسندیدہ رہائش گاہ تھی، جہاں انہوں نے اپنی 90ویں سالگرہ منائی اور عوامی فرائض سرانجام دیے۔ ملکہ کی موجودگی کی علامت کے طور پر قلعے کے گول مینار پر ان کا پرچم لہراتا تھا۔ آج بھی یہ سیاحوں کے لیے برطانیہ کا ایک نمایاں تاریخی مقام ہے۔
]]>عرب رہنماؤں نے غزہ کے لیے مصر کی تعمیر نو کا منصوبہ منظور کرلیا ہے جس پر 53 ارب ڈالر لاگت آئے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’مشرق وسطیٰ ریویرا‘ وژن کے برعکس فلسطینیوں کی آبادکاری سے گریز کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ قاہرہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے اختتام پر اس تجویز کو قبول کر لیا گیا ہے۔عبدالفتاح السیسی نے اجلاس میں کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، غزہ کی پٹی کو تباہ کرنے والے تنازع میں امن حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔غزہ کے مستقبل کے بارے میں جن بڑے سوالات کا جواب دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہیں کہ اس انکلیو کو کون چلائے گا، کون سے ممالک تعمیر نو کے لیے درکار اربوں ڈالر فراہم کریں گے۔السیسی نے کہا کہ مصر نے فلسطینیوں کے ساتھ مل کر آزاد، پیشہ ور فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ایک انتظامی کمیٹی تشکیل دینے پر کام کیا، جسے غزہ کی حکمرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمیٹی، فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کی واپسی کی تیاری میں عارضی مدت کے لیے انسانی امداد کی نگرانی اور پٹی کے معاملات کے انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔
پانچ برس کے اندر غزہ کی تعمیر نو کا کام مکمل
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے باور کرایا ہے کہ عرب ممالک پانچ برس کے اندر غزہ کی تعمیر نو کا کام مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ عرب سربراہ اجلاس میں جس چیز پر اتفاق ہوا وہ ایک قابل عمل حقیقت ہے۔ مصری وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ قاہرہ سربراہ اجلاس نے ایک عملی متبادل حل پیش کیا جیسا کہ امریکا نے درخواست کی تھی۔ فلسطین سے متعلق اجلاس میں جس چیز پر اتفاق رائے ہوا ہے وہ غزہ میں الم ناک صورت حال کا علاج ہے۔مصری وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ تعمیر نو کے منصوبے کو تفصیلی شکل میں بیان کرنے کے لیے کئی دار الحکومتوں کا دورہ کیا جائے گا۔بدر عبدالعاطی کے مطابق جنگ کے بعد غزہ کی انتظامیہ آزاد فلسطینی شخصیات کے ہاتھوں میں ہونی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ غزہ کی تعمیر نو پر عمل درآمد کے لیے پائے دار فائر بندی لازم ہے۔مصری وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کا قیام تشدد کی عدم تکرار یقینی بنانے کے لیے واحد ضمانت ہے۔ صدر ٹرمپ بھی یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ تشدد کے خلاف ہیں اور امن چاہتے ہیں۔
اسرائیل کو عرب ممالک کا منصوبہ نامنظور
اسرائیلی وزارت خارجہ نے غزہ کی پٹی سے متعلق عرب ممالک کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عرب سربراہ اجلاس کے اختتام پر جاری بیان غزہ کی حقیقی صورت حال کا علاج نہیں کرتا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق حماس تنظیم غزہ میں باقی نہیں رہ سکتی۔اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ عرب سربراہ اجلاس کے بیان میں سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ بیان فلسطینی اتھارٹی اور انروا پر انحصار کر رہا ہے۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے دونوں اداروں کو “بد عنوان” قرار دیاہے۔
حماس نے تعمیر نو کے منصوبے کا کیا خیر مقدم
دوسری جانب فلسطینی تنظیم حماس نے قاہرہ میں عرب سربراہان کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم کیا ہے۔ تنطیم کے مطابق اس اجلاس کا انعقاد فلسطینی قضیے کے سلسلے میں عرب اور اسلامی صف بندی کی اعلیٰ پیش رفت ہے۔حماس نے جبری ہجرت سے متعلق قابض اسرائیل کے منصوبے مسترد کرنے کے سلسلے میں عرب قیادت کے اتفاق کو گراں قدر قرار دیا۔ تنظیم نے عرب سربراہ اجلاس میں منظور کیے گئے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔حماس نے غزہ کے انتظامی امور چلانے کے لیے معاون کمیٹی کی تشکیل کے فیصلے کی حمایت کی۔تنظیم نے فلسطینی صدر کی جانب سے قانون ساز اور صدارتی انتخابات کے اجرا کی دعوت کو خوش آئند قرار دیاہے۔
]]>