113

کیا لوگوں کی زندگی قیمتی ہے؟ یا الیکشن؟تلنگانہ ہائی کورٹ

حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک بار پھر ریاستی حکومت اور ریاستی الیکشن کمیشن پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کورونا کی صورتحال پر سماعت کے دوران ریاست میں جاری منی میونسپل پول کے انتظامات پر سخت ریمارکس کیے۔ ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ آیا ریاستی الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں ہے؟ کورونا کنٹرول کے بارے میں حکومت کے اقدامات پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ریاست میں نافذ کرفیو کل رات ختم ہوگا۔ اس کے بعد کیا قدم اٹھایا جانے والا ہے؟ جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ حکومت صورتحال کا جائزہ لے گی اور کل فیصلہ لے گی۔حکومت کے جواب پر عدالت نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ آخری منٹ میں فیصلے کیوں کرتے ہیں؟ کنٹرول کرنے کے اقدامات کو کیوں راز میں رکھا جا رہا ہے؟ کم از کم ایک دن پہلے فیصلہ لینے میں کیا نقصان ہے؟ سخت پابند اقدامات کرنے کے بارے میں ہم کوئی ہدایات نہیں دیں گے، حکومت خود زمینی صورتحال کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔ عدالت کی تجویز پر ایڈوکیٹ جنرل پرساد نے کہا کہ وہ حکومت سے مشاورت کے بعد عدالت کو بتا دیں گے۔دوسری طرف عدالت نے ریاستی الیکشن کمیشن سے دریافت کیا کہ کورونا کے مشکل حالات میں انتخابات کیوں کروائے جا رہے ہیں؟ کیا لوگوں کی زندگی قیمتی ہے؟ یا الیکشن؟ اگر جنگ آجائے یا آسمان گر پڑے تو بھی کیا انتخابات ہونے چاہیے؟ کیا الیکشن کمیشن کے عہدیدار زمینی حقائق سے واقف نہیں ہیں؟ کیا حکام زمین پر رہتے ہیں؟ یا آسمان میں؟ ہائی کورٹ نے سوال کیا کہ چند بلدیات کی ابھی معیاد باقی تھی ایسے میں وہاں جلد انتخابات کیوں کروائے جا رہے ہیں۔ جس پر الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ انتخابات ریاستی حکومت کی رائے کے مطابق ہو رہے ہیں۔
عدالت نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کورونا کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر نوٹیفکیشن کیوں دیا گیا تھا۔ کیا ایس ای سی کو انتخابات ملتوی کرنے کا اختیار نہیں ہے؟ انتخابی مہم کے لئے وقت کم کیوں نہیں کیا گیا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی وضاحت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو سماعت میں شریک ہونے کی ہدایت دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں