337

کسان سڑک پر اتر نے مجبور کیوں؟


عبید اللہ ناصر

مودی حکومت کی مسلسل وعدہ خلافیوں اور کسان دشمن پالیسی کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں کسان سڑک پر اترنے کے لئے مجبور تھے پھر بھی حکومت کے کانوں پر جوں نہ رینگی تو مجبوراًا نہیں د لی مارچ کرنا پڑا پھر بھی تادم تحریر ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کی حکومت کسانوں کے مسایل حل کرنے کملے کچھ قدم اٹھانے والی ہے اسکے برخلاف سوشل میڈیا پر مودی حکومت حامی عناصر جس طرح ان کسانوں کا مذاق اڑا ر ہے ہیں اس سے کسانوں کے تئیں مودی حکومت کی سوچ کا پتا چلاتا ہے دوسری جانب کسانوں کی اس تحریک سے نہ صرف کسانوں کے مسایل اجاگر ہوئے بلکہ یہ انتخابات کے اس ماحول میں اپوزیشن کے اتحاد کا پیش خیمہ بھی بنتے دکھایی دے رہے ہیں کیونکہ بی جے پی اور اسکے حلیفوں کو چھوڑ کر اپوزیشن کے تمام اہم لیڈران اس کسانوں سے ہمدردی دکھانے کے لئے جنتر منتر پہنچے – کسانوں کے مطالبات نہ تو نیے ہیں اور نہ ہی نا قابل قبول بس ان کو پورا کرنے کے لئے حکومت کے پاس قوت ارادی کی کمی ہے ورنہ کسان صرف یہی تو مانگ کر رہی ہیں کہ مودی حکومت اپنے وعدہ کے مطابق سوامناتھن کمیٹی کی سفارشات کے مطابق انکی پیداوار کی قیمت دے اور انھیں قرض سے نجات دلاے –کسانوں کو یاد ہے کی سابقہ منموہن حکومت نے انکے 76 ہزار کروڑ کے قرض معاف کے تھے اور 2013 میں انھیں اب تک کی سب سے زیادہ گیہوں کی سہارا قیمت دی تھی کسانوں کا کہنا ہے کہ جب منموہن سنگھ کی حکومت یہ کر سکتی ہے تو مودی کِ8 حکومت کیوں نہیں خاص کر ٹیب جب بڑے بڑے دھنا سیٹھوں کا کھربوں روپیہ کا قرض بٹے کھاتہ میں ڈالا جا چکا ہے اور اس سے بھی بڑی رقم چند بڑے تاجر لے کر ملک سے فرار ہو چکے ہیں –

یہ تو دنیا جانتی ہے کہ ہندستان میں زرعی زمرہ سخت بحران میں مبتلا ہے یہ بحران نیا تو نہیں ہے لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ2014 میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد سے یہ بحران زیادہ شدید ہو گیا ہے کیونکہ اس حکومت کی پالیسیاں کسانوں سے زیادہ صنعت کاروں اور بڑے تاجروں کے مفاد میں رہی ہیں جس کی سب سے ظالمانہ مثال فصل بیمہ اسکیم ہے-ممتاز ماہر معاشیات پی سائی ناتھ نے اسے رافیل جنگی جہاز سودے سے بھی بڑا گھپلا بتایا جسکا سیدھا فایدہ پرائیویٹ زمرہ کی بیمہ کمپنیوں کو مل رہا ہے –اطلاعات کے مطابق کسان کو 40 ہزار کا بیمہ کرانے کے لئے اپنے پاس سے 800 روپیہ دینا ہوتا 3200 روپیہ مرکزی حکومت اور 3200 روپیہ ریاستی حکومت کو دینا ہوتا ہے اس طرح بیمہ کمپنی کو کل 7200 روپیہ ملتا ہے زیادہ تر کسان دعوے وغیرہ کی جھنجھٹ میں پڑتے ہی نہیں اور جو دعوے کرتے بھی ہے انھیں چار پانچ سو روپیہ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے ایک اندازہ کے مطابق اس گھپلے میں اب تک کئی ارب روپیہ بیمہ کمپنیاں کما چکی ہیں – حیرت انگیز طور پر فصل بیمہ کا یہ ذمہ سرکاری زمرہ کی بیمہ کمپنیوں کو نہیں بلکہ نجی زمرہ کی کمپنیوں کو دیا گیا ہے جس سے اس کھیل میں کس کس کو فایدہ مل رہا ہے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے – بیمہ کمپنیوں کی یہ لوٹ تو محض ایک بانگی ہے کسان ہر طرف سے لوٹا جا رہا ہے یوریا کھاد کے دام کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں جبکہ پچاس کلو کی جگہ اب بوری میں صرف 45 کلو کھاد ہی بھری جاتی ہے اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنے کسان بوری کے اصل وزن سے واقف ہونگے-کھاد اور بیج کے ساتھ ہی ساتھ ڈیزل کی آسمان چھوتی قیمتوں سے بھی کسان ہلکان ہے جنکے اپنے ٹریکٹر اور ٹیوب ویل ہیں وہ تو ڈیزل کی قیمت سے پریشان ہیں ہی ان سے کہیں زیادہ وہ کسان پریشان ہیں جو ٹریکٹر کرایہ پر بلا کر اپنے کھیت جوتواتے ہیں اور دوسرے کے ٹیوب ویل سے فی گھنٹہ کے حساب سے پانی لیتے ہیں ایسے کسانوں پر دوہری مار پڑتی ہے – کسانوں کے مسایل گوناگوں ہیں جنھیں کسی فارمولا کے تحت حل نہیں کیا جا سکتا مثلا فصل خراب ہونے یا آفات ارضی و سماوی سے ہوئے نقصان کو تو بیمہ کمپنیاں اگر پورا بھی کر دیں تو بہت اچھی فصل ہو جانے پر انھیں بازار سے جو مناسب قیمت نہیں ملتی اسکا کیا حل ہو سکتا اکثر کسانوں کا ٹماٹر یا پیاز سڑک پر پھینک دینے کی خبر آتی ہے وہ زیادہ پیداوار کی وجہ سے ہی ہوتا ہے پہلے کسان کم پیداوار کی وجہ سے پریشان ہوتے تھے اب زیادہ پیداوار انکے لئے مصیبت بن جاتی ہے –

مودی حکومت کی کسان دشمن پالیسیاں سونے پر سوہاگے کا کام کرتی ہیں اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ گنا کسانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ زیادہ گنا نہ بوئیں کیونکہ اس شوگر کا مرض ہو جاتا ہے لیکن پاکستان سے شکر منگوا لی جاتی ہے گزشتہ سال دالوں کی قیمتیں آسمان چھو رہی تھیں ہندستانی کسانوں نے بڑے پیمانہ پر ارہر ماش مونگ اور دوسری دالیں بو دیں پیداوار بھی اچھی ہوئی لیکن جب دالوں کے بازار پہنچنے کا وقت آیا تو دال امپورٹ کر لی گی اور کسانوں کی دال کی فصل بازار میں پہنچنے سے پہلے یہ دال بازار میں پہنچ گی جس سے ہندستانی کسان کی ڈال اس کے گھر میں ہی رکھے رکھے برباد ہو گئی یا پھر اسے اونے پونے بیچنا پڑا-یہی حالت زیادہ تر نقد فصلوں کا ہوتا ہے- فایدہ بخش سہارا قیمت کے ساتھ ساتھ اسکی خریداری یقینی بنانا بھی اہم مسلہ ہے جب تک خریداری کا مناسب بندو بست نہ ہو سہارا قیمتوں کا تعین بے معنی ہو جاتا ہے –کسانوں کے ان مطالبات پر حکومت کو ہمدردی اور ترجیحی بنیاد پر حل کرنا چاہئے لیکن فی الحال مودی حکومت کا کسانوں کے تئیں رویہ تو معاندانہ ہی دکھایی دیتا ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں