122

چینی جاسوس لوسنگ گرفتار، کروڑہا روپئے کا حوالہ ریاکٹ بے نقاب

نقلی آدھار کارڈ، پاسپورٹس،پان کارڈ و دیگر اشیاء ضبط
چینی کمپنیوں اور سفارتی عہدیداروں کیلئے کام کرنے کا انکشاف

نئی دہلی ۱۲ اگست۔محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے ملک میں چینی شہریوں اور ان کی کمپنیوں پر دھاوے کئے جارہے ہیں۔ خاص طور پر ایسے چینی شہریوں کی جانچ کی جارہی ہے جو منی لانڈرنگ اور دیگر مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ لوسنگ نامی چینی شہری کی مختلف تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے جانچ کی جارہی ہے جس سے متعلق شبہ ہے کہ وہ جاسوس ہوگا۔ یہ پہلا موقع نہیںہے جب لوسنگ سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ 2018 میں سنٹرل انٹلیجنس ایجنسیز اور دہلی پولیس اسپیشل سیل کی مشترکہ ٹیم نے تلبیس شخصی اور دھوکہ دہی کے الزام میں لوسنگ کو گرفتار کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق لوسنگ تبت کے صوبہ لہاسہ کے چنگوان کے رہنے والے تھنگا کا بیٹا ہے جس نے ہندوستانی شناخت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس نے قومی دارالحکومت دہلی کے علاقہ میں کام کرنے والی مختلف چینی کمپنیوں کے فینانس کے کاموں کو اپنے کنٹرول میں کرلیا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق چند چینی شہری اور ان کے ہندوستانی ساتھی منی لانڈرنگ اور حوالہ معاملتوں میں ملوث ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ محکمہ کی جانب سے چینی کمپنیوں کے مختلف احاطوں میں دھاوے کئے گئے اور ان کی تلاشی لی گئی۔ گرفتاری کے بعد ایجنسیوں نے دو نقلی آدھار کارڈس، 2 نقلی ہندوستانی پاسپورٹس، ایک نقلی پیان کارڈ ضبط کرلیا۔ بتایا گیا ہے کہ لوسنگ چارلی پینگ کے نام سے کام کررہا تھا اور گروگرام ہریانہ میں مقیم تھا۔ذرائع نے بتایا کہ 2014 میں وہ غیر قانونی طور پر نیپال سے ہندوستان میں داخل ہوا اور شمال مشرقی ہندوستان کی ایک خاتون سے اس نے شادی کی۔وہ تربیت یافتہ جاسوس ہے جس نے پوچھ تاچھ کرنے والوں کو اُلجھن میں ڈال دیا۔ ابتداء میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ ہندوستان میں پناہ حاصل کرنے کیلئے غیر قانونی طور پر داخل ہوا تھا کیونکہ چینی حکام کی جانب سے تبتیوں کو ستایا جارہا تھا۔بعد میں اس نے بتایا کہ اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور وہ برسوں تک جیل میں رہا ہے جہاں چینی حکام نے اسے جاسوس بننے کیلئے مجبور کیا۔ اپنے چینی پس منظر سے متعلق اس نے بارہا اپنی کہانی کو تبدیل کیا اور تحقیقاتی عہدیداروں کو اُلجھن کا شکار بنادیا۔ ایک موقع پر تو اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ پی ایل اے کا فوجی ہے۔ اب تک کی پوچھ تاچھ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ لوسنگ یا چارلی پینگ ایک تربیت یافتہ جاسوس ہے۔ چین کی جانب سے یہ تربیت دی گئی ہے کہ کس طرح شیل یعنی ظاہری طور پر کمپنیوں کو چلایا جاتا ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایسی چینی کمپنیوں کے مالی اُمور کی معاملت کررہا تھا جو ای کامرس سائیٹس پر اپنی اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ پوچھ تاچھ سے معلوم ہوا کہ اس کو دو ذمہ داریاں دی گئی تھیں۔ ایک ذمہ داری یہ تھی کہ کسی طرح دلائی لامہ کے قریبی حلقہ میں داخل ہونے کی کوشش کرے جس کے لئے اس نے ہماچل پردیش کا کئی مرتبہ دورہ کیا۔دوسری ذمہ داری اس نے یہ بتائی کہ چینی سفارتخانہ کے عہدیداروں کیلئے بھی اس نے کام کیا جن میں رقم کی منتقلی، کاروں کی فراہمی اور ان کے سفری انتظامات شامل تھے۔

Sh

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں