162

فلم ’مغل اعظم‘ کی عکس بندی کے دوران دلیپ کمار اور مدھوبالا کی محبت اپنے عروج پر تھی; مگرشادی نہ ہو سکی کیوں

شہرہ آفاق فلم مغل اعظم جس کے بعد مدھو بالا صرف اداکارہ نہیں رہیں بلکہ سنیما کی تاریخ میں لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر گئیں۔
بالی ووڈ میں مدھوبالا کو ایک ایسی اداکارہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی دلکش اداؤں اور بہترین اداکاری سے تقریباً چار دہائیوں تک فلمی مداحوں کے دلوں پر راج کیا۔
مدھوبالا کی پیدائش 14 فروری 1933 کو ہوئی تھی۔ ان کے والد عطا اللہ خان کی ملاقات ایک نجومی سے ہوئی جس نے بتایا کہ مدھو بالامستقبل کی بہت کامیاب اداکارہ بنیں گی۔ مدھو بالا کا اصل نام ممتاز جہاں بیگم تھا۔ انہوں نے سال 1942 میں صرف نو سال کی عمر سے بی بے ممتاز کے نام سے فلم بسنت سے اپنے فلمی کیریئر کا آغازکیا تھا۔ اس وقت کی مشہور فلم ساز دیویکا رانی نے انہیں مدھو بالا کا فلمی نام دیا۔ سال 1947 میں مدھو بالا نے فلم نیل کمل میں راج کپور کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
انتہائی خوبصورت اور معصوم سی مسکراہٹ بکھیرنے والی مدھو بالا کا شمار ہندی فلموں کی سب سے بااثر شخصیات میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے چالیس اور پچاس کی دہائی میں اپنی فن اداکاری سے مداحوں کے دل میں گھر کرلیا تھا اور محل، ترانہ، مسٹر اینڈ مسز 55، ہاؤڑا برج، کالا پانی، چلتی کا نام گاڑی جیسی کئی کامیاب فلموں میں انہوں نے کام کیا۔
فلم محل سے شہرت اور ناموری کا جو سفر مدھو بالا نے شروع کیااسے کوئی بھلا نہیں سکتا ۔ ’محل ‘کے بعد تو انھوں نے پیچھے مڑ کر ہی نہیں دیکھااور ایک سےبڑھ کر ایک کامیاب فلمیں دیتی رہیں جن میں’دلاری‘ ، ’بے قصور‘اور ’ ترانہ‘ جیسی ہٹ فلمیں شامل ہیں۔
شہرہ آفاق فلم مغل اعظم جس کے بعد مدھو بالا صرف اداکارہ نہیں رہیں بلکہ سنیما کی تاریخ میں لیجنڈ کی حیثیت اختیار کر گئیں۔ اپنی مختصر زندگی میں مدھو بالا نے چوبیس فلموں میں کام کیا جن میں سے زیادہ تر سپر ہٹ رہیں لیکن دلیپ کمار کے ساتھ مدھو بالاکی جوڑی کو دیکھنے والوں نے بہت پسند کیا۔مدھو بالا اپنی خوابناک آنکھوں اور حسن کی وجہ سے بہت مشہور تھیں لیکن جو لوگ ان کو حقیقی زندگی میں دیکھا کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ اسکرین پرمدھو بالا کا حسن بمشکل ’نصف ‘ہی دکھتا ہے ۔
فلم ’مغل اعظم‘ کی عکس بندی کے دوران دلیپ کمار اور مدھوبالا کی محبت اپنے عروج پر تھی۔ مدھوبالا کی ملاقات فلم ’جوار بھاٹا‘ کے سیٹ پر شہنشاہ جذبات دلیپ کمار سے ہوئی تھی اور یہ ملاقات دوستی سےمحبت میں کب بدلی پتہ ہی نہ چلا۔مدھوبالا کے والد نے دلیپ کی محبت کو کاروباری معاہدہ بنانے کی کوشش کی۔ اس سے ان کے تعلقات خراب ہونا شروع ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلاکہ’مغل اعظم‘ کی تیاری سے پہلے ہی ان دونوں کی بات چیت مکمل طور پر بند ہو گئی اوریہ حسین جوڑی ٹوٹ گئی ۔
دلیپ سے دل ٹوٹنے کے بعد مدھوبالا نے اپنے والد سے کہا کہ اگر میری مرضی سے شادی نہیں ہوئی تو میں آپ کی مرضی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔انہوں نے یہ کردکھایا۔ ایک رات وہ پچھلے پہر کشور کمار کے دروازے پر پہنچ گئیں اور ان سے شادی کا پوچھا۔ کشورجو پہلے سے اس کے منتظر تھے وہ بھلا کیسے انکار کرتے اور یوں دونوں کی شادی ہوگئی۔
شادی کے بعد بھی مدھوبالا نے کئی کامیاب فلمیں دی لیکن ان کی طبیعت کافی خراب رہنے لگی۔ پتہ چلا کہ ان کے دل میں سوراخ ہے جس کا علاج یہاں ممکن نہ تھا اور کشور کمار مدھوبالا کو لندن لے گئے ۔اس سے ان کی طبیعت سنبھلی تو مگر مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی، وہ واپس ہندستان آگئیں۔پھر فلموں میں کام کرنے لگیں مگر شاید ان کی زندگی کو یہ منظور نہ تھا۔
بالی وڈ کی فلموں میں لازوال رومانوی کردار ادا کر کے امر ہوجانے والی مدھو بالا محض چھتیس سال کی عمر میں 23 فروری 1969 کو اس دنیا کو الوداع کہہ گئیں۔مدھو بالا نے کم عمری میں وہ عروج دیکھا جو شاید ہی کسی اوراداکارہ کے حصے میں آیا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں