92

سخت تر لاک ڈاؤن: اب ہم مزید سخت اقدامات پر مجبور ہیں، میرکل

سولہ دسمبر سے جرمنی میں زندگی دوبارہ ’جمود‘ کا شکار ہو جائے گی۔ اس سخت لاک ڈاؤن کے دوران اشیائے خوراک کی تجارت کرنے والی سپر مارکیٹوں کے علاوہ ملک بھر میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز پھر سے بند رہیں گے۔
جرمنی میں کورونا وائرس کے نئے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث آئندہ بدھ کے دن سے دوبارہ سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا۔ اس بھرپور لاک ڈاؤن کا مقصد کرسمس سے پہلے عوامی نقل و حرکت کو مزید محدود کرنا ہے۔ یہ فیصلہ آج اتوار کے روز وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے تمام سولہ وفاقی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک آن لائن مشاورتی اجلاس کے بعد کیا۔ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اب تک کے نرم لاک ڈاؤن کے مقابلے میں یہ سخت لاک ڈاؤن سولہ دسمبر سے دس جنوری تک جاری رہے گا۔ اس موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا تھا کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے موجودہ حالات کے پیش نظر دوبارہ لاک ڈاؤن کا یہ انتہائی فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

ہلاکتوں میں اضافہ

یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے بیس ہزار دو سو نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ برلن میں روبرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ نے آج اتوار کے روز بتایا کہ ملک میں کورونا وائرس کے متاثرین کی مجموعی تعداد اب تیرہ لاکھ بیس ہزار سات سو سولہ ہو گئی ہے۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک میں کووڈ انیس کے باعث مزید تین سو اکیس ہلاکتیں بھی ریکارڈ کی گئیں۔ ان نئی ہلاکتوں کے بعد جرمنی میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث اموات کی مجموعی تعداد بھی اب اکیس ہزار آٹھ سو کے قریب ہو گئی ہے۔

حکومت مخالف مظاہرے

جرمنی کے فرینکفرٹ، ڈریسڈن اور ایرفُرٹ سمیت کئی شہروں میں کل ہفتے کے روز سینکڑوں شہریوں نے ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کے خلاف حکومت کی طرف سے کیے گئے حفاظتی اقدامات کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ یہ مظاہرے کئی مقامات پر مقامی عدالتوں اور بلدیاتی حکام کی طرف سے ممانعت کے باوجود کیے گئے۔ جرمنی میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے افراد کورونا وائرس کو محض ایک جھوٹ قرار دیتے ہیں۔ ایسے افراد ان پابندیوں کے بھی خلاف ہیں، جو حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عائد کر رکھی ہیں۔ فرینکفرٹ میں پولیس کو ان مظاہرین اور ان کے احتجاج کے خلاف جوابی احتجاج کرنے والے شہریوں کو باہمی تصادم سے دور رکھنے کے لیے مداخلت کرنا پڑی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں